آخر در و دیوار کے آنسو نکل آئے
ہم کو نظر آ تی ہی نہ تھی گھر کی اداسی
Related posts
-
-
اقبال عظیم
پرسشِ حال کی فرصت تمہیں ممکن ہے نہ ہو پرسشِ حال طبیعت کو گوارا بھی نہیں -
علامہ اقبال
ذرا سی بات تھی، اندیشۂ عجم نے اسے بڑھا دیا ہے فقط زیبِ داستاں کے لیے
